ابنا: پاکستان کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر حملے اور دھشتگردانہ اور فرقہ وارانہ واقعات میں سزا یافتہ بد نام زمانہ قیدیوں کے فرار کر جانے کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اسلام آباد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق ڈیرہ ا سماعیل خان سینٹرل جیل پر دہشت گرد حملے کی رپورٹ انٹیلی جنس اداروں نے اس ملک کے وزیر اعظم نواز شریف کو پیش کردی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کی اطلاع پر صوبائی حکام نے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا اور جیل کا دورہ بھی کیا ، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے حملہ روکنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔دوسری جانب انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق اس حملے کی اطلاع ایک ہفتے پہلے ہی مل چکی تھی،چار روز قبل آئی ایس آئی اور دیگر خفیہ ایجنسیوں سمیت پولیس اور جیل حکام نے ایک اجلاس بھی کیا تھا ،اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ ایک کالعدم تنظیم جیل میں اپنے ساتھی قیدیو ں کو رہا کرانے کے لیے 29جولائی کوسینٹرل جیل پرحملہ کرسکتی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر تمام تر پیشگی اطلاعات کے باوجودپولیس، جیل حکام اور سول انتظامیہ حملہ روکنے میں ناکام رہی اور فوج کی مدد بھی حملہ ہونے کے بعد طلب کی گئی۔انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق نیشنل کرائسس مینجمنٹ نے اس سلسلے میں 28جولائی کو خیبرپختونخوا کے اعلیٰ حکام، ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا،آئی جی جیل خانہ جات، کمانڈنٹ فرنٹیر کانسٹیبلری کو ایک خط بھی لکھا، جس میں ڈیرہ اسماعیل خان جیل اور ڈی پی او ڈی آئی خان پر خودکش حملے کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا تھا،سانحہ ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں غفلت برتنے پر ایس پی اورڈی ایس پی سمیت 27 اہلکار معطل کردیئے گئے۔درایں اثنادہشت گردکالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈرعدنان رشید نے کہا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان جیل توڑنے کے لیے 13 گاڑیاں اور ایک کروڑ روپے کے فنڈز استعمال کیے گئے۔ عدنان رشید کے بقول ڈیرہ اسماعیل خان جیل توڑ کر اپنے ساتھی دہشت گردوں کو رہا کرانے کے اس آپریشن کا نام مرگ نجات تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
30 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 447040
پاکستان کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر حملے اور دھشتگردانہ اور فرقہ وارانہ واقعات میں سزا یافتہ بد نام زمانہ قیدیوں کے فرار کر جانے کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔